Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
نماز کے لیے کھڑے ہونے پر ایسا لگے کہ وضو باقی نہیں رہا، تو کیا تازہ وضو کرنا ضروری ہوگا؟
- Fatwa no.
- 12261-Nor
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہندہ اچھی طرح وضو کرنے کے بعد بھی جب نماز کے لیے کھڑی ہوتی ہے تو اسے ایسا لگتا ہے کہ اس کا وضو باقی نہیں رہا جب کہ اسے وضو ٹوٹنے کا یقین بھی نہیں ہو تا۔ اب بار بار وضو کرنے میں اسے مشکلات کا سامنا ہوتا ہے بسا اوقات تو اس کا دل بھی گھبرانے لگ جاتا ہے۔ دریافت طلب امر یہ ہے کہ کیا اس صورت میں ہندہ کے لیے نئے سرے سے وضو کر ناشر عاضر وری ہے ؟ یا پھر وہ اسی وضو کے ساتھ اپنی نماز جاری رکھے ؟؟ رہنمائی فرمادیں۔
Answer (beginning)
محض شک سے وضو نہیں ٹو فتا، جب تک وضو ٹوٹنے کا اس حد تک یقین نہ ہو جائے کہ بندہ قسم کھا سکے تب تک اس کا وضو باقی رہتا ہے۔ لہذا صورت مسئولہ میں وضو باقی نہ رہنے کے محض وسوسے آنے سے ہندہ کا وضو نہیں ٹوٹے گا ہندہ کو چاہیے کہ اگر اس کا معاملہ واقعی وسوسوں کی حد تک ہے تو ان کی طرف اصلاً توجہ نہ دے اور اپنی نماز جاری رکھے۔ تنویر الابصار مع الدر المختار میں ہے: ”ولوايقن بالطهارة وشک بالحدث او بالعکس اخذ بالیقین“ یعنی اگر طہارت کا یقین ہو اور حدث میں شک واقع ہو جائے یا پھر اس کا بر عکس ہو تو اس صورت میں جس کا یقین ہو اسے لیا جائے گا۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.