Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

آن لائن آرڈر پر مٹکے اور گملے تیار کر کے بیچنے کا حکم

Fatwa no.
12269-Nor

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر کوئی عورت گھر میں گملے اور مٹکوں پر ڈیزائن اور پینٹنگ کر کے online delivery کے ذریعہ بیچے ، کبھی کھاد مٹی خرید کر اس میں پھول لگا کر گملے کو نیچے ، گملے اور پینٹس اس کے پاس پہلے سے ہوں، لیکن تیار کرنے والی کچھ چیزیں آرڈر لینے کے بعد لینی پڑیں، جب کوئی آرڈر آئے تو قیمت وغیرہ پہلے سے طے کر لی جائے ، پھر پروڈکٹ تیار کر کے بیچے ، تو اس طرح سے کاروبار کرنا جائز ہے یا ناجائز ؟

Answer (beginning)

آردڈ پر کوئی چیز تیار کروانا بیع استصناع کہلاتا ہے اور بیچ کا یہ طریقہ صرف ان ہی چیزوں میں جائز ہے، جن چیزوں کو عاد تا آرڈر پر تیار کروانا لو گوں میں معروف ہو، نیز اس صورت میں چیز کا پہلے سے ملکیت میں ہو ناضروری نہیں۔ موجودہ زمانہ میں گھر ، دوکان وغیرہ کی زیب و آرائش وغیرہ جائز مقاصد کے لئے آرڈر پر ڈیزائن والے مٹکے اور گملے تیار کر وانا لوگوں میں معروف ہے ، اس لئے خرید و فروخت کا مذکورہ طریقہ کار اختیار کرنا جائز ہے۔ البتہ اس میں چند چیزوں کو ملحوظ رکھناضروری ہے: (1) چیز جتنی رقم میں بیچی جارہی ہے فریقین اس رقم کی مقدار پر اتفاق کریں کہ اتنے کی چیز ہوگی۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.