Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
نمازِ جنازہ میں اتنی آواز سے ہنسا کہ خود کے کانوں تک آواز آئی ، تو نمازِ جنازہ کا کیا حکم ہوگا
- Fatwa no.
- 12244-Nor
Question
(دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ بالغ شخص اگر نماز جنازہ میں اتنی آواز سے ہنسا کہ خود اس کے کان تک آواز آئی، آس پاس والوں نے نہیں سنی ، تو اس صورت میں نماز جنازہ کا کیا حکم ہو گا؟
Answer (beginning)
جو چیزیں نماز کو فاسد کرتی ہیں، ان سے نماز جنازہ بھی فاسد ہو جاتی ہے اور نماز میں اتنی آواز سے ہنسنا کہ صرف اپنے کانوں تک آواز آئے ، اس سے نماز فاسد ہو جاتی ہے کہ یہ قابل سماعت ہونے کی وجہ سے کلام کے مرتبہ میں ہے ، لہذا پوچھی گئی صورت میں اگر کوئی شخص نماز جنازہ میں اتنی آواز سے ہنسا کہ صرف اس کے کانوں تک آواز آئی،اس سے اس کی نماز جنازہ فاسد ہو جائے گی۔ بدائع الصنائع میں ہے: "وامابيان ما تفسد به صلاة الجنازة فنقول:انها تفسد بما تفسد به سائر الصلوات وهو ما ذكرنا من الحدث العمد و الکلام “ یعنی بہر حال ان چیزوں کا بیان جن سے نماز جنازہ فاسد ہوتی ہے ، تو اس کے متعلق ہم کہتے ہیں: نماز جنازہ ان…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.