Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
ایک رکعت میں دو رکوع اور تین سجدے کرنے کا کیا حکم ہے
- Fatwa no.
- 12239 Nor
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ کسی نے ایک رکعت میں دور کوع یا تین سجدے کر لئے ، تو اس کا کیا حکم ہے؟
Answer (beginning)
واجب ہے کہ نماز پڑھنے والا ہر رکعت میں ایک رکوع اور دو سجدوں پر اکتفا کرے، اگر دور کوع یا تین سجدے کرے گا، تو اس صورت میں ترک واجب ہو گا۔ پوچھی گئی صورت میں اگر کسی نے بھولے سے ایک رکعت میں دو رکوع یا تین سجدے کر لئے ، تو بھولے سے واجب ترک ہونے کی وجہ سے اس پر سجدۂ سہولازم ہو گا۔ اور اگر اس نے جان بوجھ کر ایک رکعت میں دور کوع یا تین سجدے کئے ، تو اس صورت میں سجدہ سہو سے اس کی تلافی نہیں ہو گی، بلکہ اس نماز کو دوبارہ پڑھناواجب ہو گا، اسی طرح بھولے سے ایسا ہوا ، لیکن آخر میں سجدۂ سہو نہیں کیا، تو اس صورت میں بھی نماز کو دوبارہ پڑھنا واجب ہو گا۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.