Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

کیا صرف تلبیہ کہنے سے احرام کی پابندیاں شروع ہو جاتی ہیں؟

Fatwa no.
12224-Nor

Question

ہے؟ دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر ہم اپنے گھر پر سلے ہوئے کپڑے پہنے ہونے کی حالت میں تلبیہ پڑھ لیں جیسے بعض اوقات ہم ذکر کی نیت سے یا یاد کرنے کی نیت سے تلبیہ پڑھتے ہیں عمرہ یا حج کی نیت نہیں ہوتی، تو کیا اس طرح تلبیہ کہنے سے احرام کی پابندیاں لازم ہو جاتی ہیں ؟ سائل : سید رضوان الحسن

Answer (beginning)

احرام کی حالت میں داخل ہونے کے لئے ضروری ہے کہ تلبیہ سے پہلے حج یا عمرہ میں سے ایک یا پھر مطلق مناسک کی ادائیگی کے لئے احرام کی نیت کرے، لہذا اگر بلانیت تلبیہ پڑھ لی جائے جیسا کہ بعض اوقات یاد کرنے کے لئے یا ذکر اللہ کی نیت سے تلبیہ پڑھ لی جاتی ہے، تو اس صورت میں بندہ محرم نہیں ہو جاتا اور اس پر احرام کی پابندیاں بھی لازم نہیں ہو تیں۔ فتاوی ہندیہ میں ہے: ” اما شرطه فالنية حتى لا يصير محرما بالتلبية بدون نية الاحرام“ یعنی بہر حال احرام کی شرط، تو وہ نیت ہے، یہاں تک کہ احترام کی نیت کے بغیر تلبیہ کہنے سے محرم نہ ہو گا۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.