Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

زخم سے نکلنے والی رطوبت پاک ہے یا نا پاک ؟

Fatwa no.
12250-Nor

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر زخم سے رطوبت نکلے جو کہ بہنے کی مقدار میں نہ ہو۔ پھر وہ رطوبت سوکھ جائے اور کافی دیر بعد یا پھر اگلے دن اسی زخم پر خارش ہونے کی وجہ سے دوبارہ سے رطوبت نکلے لیکن وہ رطوبت بھی بہنے کی مقدار میں نہ ہو۔ اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ اس صورت میں زخم سے نکلنے والی وہ رطوبت پاک ہوگی یا پھر ناپاک شمار ہو گی ؟؟ رہنمائی فرما دیں۔

Answer (beginning)

فقہائے کرام کی تصریحات کے مطابق جو ر طوبت بدنِ انسان سے نکلے اور وضو نہ توڑے وہ نجس نہیں۔ اب جبکہ بیان کر دہ صورت میں زخم سے نکلنے والی رطوبت بہنے کی مقدار میں نہیں، لہذا صورتِ مسئولہ میں وہ رطوبت ناپاک نہیں اور نہ ہی اس رطوبت سے وضو ٹوٹے گا۔ چنانچہ تنویر الابصار مع الدر المختار میں ہے: ” (و) کل (مالیس بحدث)۔۔۔۔کقیئ قلیل و دم لوترکلم یسل (لیس بنجس“ یعنی ہر وہ چیز جو حدث نہ ہو وہ نجس بھی نہیں جیسا کہ تھوڑی سی تے جو منہ بھر نہ ہو اور وہ خون کہ جسے چھوڑ دیا جائے تو وہ نہ ہے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.