Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

نماز کا وقت کم ہو، تو کیا مستعمل پانی سے وضو کرکے نماز پڑھ سکتے ہیں؟

Fatwa no.
12269-Nor

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر نل میں پانی ختم ہو جائے اور بالٹی میں موجود پانی مستعمل ہو ، جبکہ نماز کا وقت بھی کم ہو۔ اس صورت میں اگر اسی مستعمل پانی سے وضو کر کے نماز پڑھ لی جائے تو کیا حکم ہو گا؟ کیا وہ نماز ادا ہو جائے گی یا پھر اس نماز کو دہرانا ہو گا؟؟ رہنمائی فرمادیں۔

Answer (beginning)

مستعمل پانی سے وضو اور غسل کرناشر عا جائز نہیں کہ یہ پانی اگر چہ کہ پاک ہوتا ہے لیکن نجاست حکمیہ کو پاک کرنے والا نہیں۔ لہذا صورتِ مسئولہ میں اُسی مستعمل پانی سے وضو کر کے نماز پڑھ لینے سے وہ نماز ادا نہیں ہو گی ضروری ہے کہ پانی کا حصول کر کے نماز پڑھی جائے۔ البتہ عام طور پر شہر اور آبادی میں پانی دستیاب ہی ہوتا ہے گھر میں پانی ختم ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ باہر کہیں پانی نہیں ملے گا۔ بالفرض کوئی ایسی جگہ ہو جہاں پانی کا دور دور تک نام و نشان نہ ہو اور تیم کی تمام شرائط پائی جائیں تو پھر تیم کر کے نماز پڑھی جائے گی۔ مستعمل پانی سے وضو کرنا جائز نہیں۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.