Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

شرعی فقیر کا زکوۃ لیکر سید کو دینا کیسا؟

Fatwa no.
12238-Nor

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر ز کوۃ کی رقم کسی شرعی فقیر کو دے دی جائے، پھر وہ شرعی فقیر اس زکوۃ کی رقم میں سے کچھ رقم کسی سید کو دے، تو کیا سید کا اس زکوۃ کی رقم کو استعمال کرنا شرعاً جائز ہو گا؟؟ رہنمائی فرمادیں۔

Answer (beginning)

پوچھی گئی صورت میں شرعی فقیر نے وہ زکوۃ کی رقم جو آگے سید زادے کو دی ہے تو اس کی حیثیت اب زکوۃ کی نہیں بلکہ تحفے اور نذرانے کی ہے اور شر عاسید تحفہ قبول کر سکتا ہے، اس میں کوئی حرج والی بات نہیں۔ لہذا صورتِ مسئولہ میں سید کا شرعی فقیر سے وہ رقم لے کر استعمال کرناشر عا جائز ہے ۔ البتہ ایک ہوتا ہے اس طرح کا اتفاق ہونا کہ یوں شرعی فقیر نے سید صاحب کی مدد کر دی اور ایک ہوتا ہے سید صاحب کی مدد صرف اسی طریقے سے ہی کرنا یہ مناسب نہیں ہے متمول افراد کو چاہیے کہ سادات کرام کی خدمت صاف مال سے کریں اور ان کی مدد کرنے کو اپنے لئے باعث شرف سمجھیں۔ سوال میں پوچھے گئے طریقے میں زکوۃ ادا ہو جائے گی۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.