Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
روزے کی نیت میں شک ہو تو روزہ ہوگا؟
- Fatwa no.
- 12236-Nor
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہندہ کو رات میں پیٹ میں شدید درد ہوا تو اس نے سحری میں اس طرح روزے کی نیت کی کہ اگر دن میں میرے پیٹ میں درد ہوا تو میر اروزہ نہیں، ورنہ میر اروزہ ہے۔ اب ہوا یوں کہ فجر کی نماز کے بعد پھر اس کے پیٹ میں شدید درد ہوا جس کی وجہ سے مجبوراً اسے شربت پینا پڑا۔ آپ سے معلوم یہ کرنا ہے کہ اس صورت میں کیا ہندہ پر اس روزے کی قضا کے ساتھ ساتھ کفارہ بھی لازم ہو گا؟؟ رہنمائی فرما دیں۔
Answer (beginning)
فقہائے کرام کی تصریحات کے مطابق اگر اصل نیت ہی میں شک ہو تو اس صورت میں وہ شخص روزہ شروع کرنے والا نہیں کہلائے گا، لہذا پوچھی گئی صورت میں ہندہ کا وہ روزہ شروع ہی نہیں ہوا کہ جس کی قضاء یا کفارہ اس پر لازم ہو۔ البتہ صورتِ مسئولہ میں اگر وہ فرض روزہ تھا تو ہندہ پر اس روزے کی قضا لازم ہے اور اگر نفل روزہ تھا تو ہندہ پر شرعاً کچھ بھی لازم نہیں۔ روزے کی اصل نیت میں شک ہونے کے متعلق محیط البرہانی میں مذکور ہے:”فان كان الترديد في اصل النية بان نوى ان كان غدا من رمضان فهو صائم عن رمضان، وان كان من شعبان فهو غير صائم اصلا ، فانه لا یصیر صائما بهذه النية اصلا، وان كان غدا من رمضان - فهو نظیر مالونوى…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.