Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
کیا قرض لے کر زکوۃ ادا کرنا جائز ہے؟
- Fatwa no.
- 12226-Nor
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک اسلامی بہن کو مہینے کے آخر میں سیلری ملے گی، لیکن وہ ابھی ادھار لے کر ز کوۃ ادا کرنا چاہتی ہے ، پھر جیسے ہی اس کی سیلری آئے گی تو وہ ادھار واپس کر دے گی۔ آپ سے معلوم یہ کرنا ہے کہ کیا اس صورت میں وہ اسلامی بہن دھار لے کر ز کوۃ ادا کر سکتی ہے ؟؟ ر ہنمائی فرمادیں۔
Answer (beginning)
جی ہاں ! پوچھی گئی صورت میں مذکورہ خاتون قرض کو وقت پر ادا کرنے پر قادر ہے تو ادھار لے کر ز کوۃ ادا کر سکتی ہے، شرعاً اس میں کوئی حرج والی بات نہیں۔ چنانچہ علامہ شامی علیہ الرحمہ ردالمحتار میں لکھتے ہیں: ” و لو لم یکن عندہ مال فأراد أن يستقرض لأداء الزكاة إن كان أكبر رأيه أنه يقدر على قضائه فالأفضل الاستقراض وإلا فلا لأن خصومة صاحب الدين أشد “ یعنی اگر زکوۃ کی ادائیگی کے لیے مال نہیں ہو اور یہ چاہتا ہے کہ قرض لے کر ادا کرے۔ تو اگر غالب گمان قرض ادا ہو جانے کا ہے تو بہتر یہ ہے کہ قرض لے کر ادا کرے ورنہ نہیں اس لیے کہ قرض خواہ کا اپنے حق کے لیے جھگڑا کر نازیادہ سخت ہوتا ہے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.