Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

قرآن کی قسم کھا کر توڑنے کا شرعی کفارہ کیا ہے؟

Fatwa no.
12207-Nor

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ زید نے قرآن کی قسم کھائی کہ میں اپنے فلاں دوست سے بات نہیں کروں گا۔ اب زید اس سے بات کرنے لگ گیا ہے، اس صورت میں زید کو کیا کرنا ہو گا؟؟ رہنمائی فرمادیں۔

Answer (beginning)

مستقبل میں کسی کام کے کرنے یا نہ کرنے پر قسم کھانے کو شریعت کی اصطلاح میں یمین منعقدہ کہتے ہیں اور یمین منعقدہ کے توڑنے پر کفارہ لازم آتا ہے، نیز قرآن کی قسم بھی شرع قسم ہے۔ اب جبکہ صورتِ مسئولہ میں دوست سے بات کرنے پر زید کی وہ قسم ٹوٹ چکی ہے، لہذا صورت مسئولہ میں زید پر اس قسم کا کفارہ ادا کرنالازم ہے۔ قسم کا کفارہ یہ ہے کہ دس مسکینوں کو صبح و شام دو وقت کا کھانا کھلائیں اور اس میں جن کو صبح کھانا کھلا یا ان ہی کو شام میں بھی کھلائیں تب ہی کفارہ ادا ہو گا یا دس مسکینوں کو متوسط درجے کے کپڑے دیں۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.