Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
قربانی کی قضاء کا حکم؟
- Fatwa no.
- 12197-Nor
Question
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ صاحب نصاب اور مقیم شخص نے قربانی نہیں کی جبکہ اس نے قربانی کے لیے کوئی جانور بھی نہیں خریدا تھا۔ اب ایام قربانی گزر جانے کے بعد اس کے لیے کیا حکم ہے؟ کیا وہ صاحب نصاب جانور خرید کر صدقہ کر دے یا اسے ذبح کر کے اس کا گوشت کو صدقہ کر دے؟ کس طرح سے وہ برکی الذمہ ہو گا؟؟ رہنمائی فرمادیں۔ سائل: توصیف
Answer (beginning)
پوچھی گئی صورت میں اس صاحب نصاب شخص پر اوسطاً ایسی بکری کہ جس میں قربانی کی تمام شرائط پائی جاتی ہوں اس کی قیمت صدقہ کرنا واجب ہے۔ نیز بلا وجہ شرعی قربانی نہ کرنے کے گناہ سے اللہ عزوجل کی بارگاہ میں تو بہ کرنا بھی لازم ہے۔ البتہ قربانی کی قضا میں اب جانور کو ذبح نہیں کیا جاسکتا۔ جیسا کہ بدائع الصنائع میں ہے: ”انھا لا تقضی بالا راقة لأن الاراقة لا تعقل قربة وانما جعلت قربة بالشرع في وقت مخصوص فاقتصر كونها قربة على الوقت المخصوص فلا تقضى بعد خروج الوقت ترجمہ : قربانی کی قضا خون بہانے (یعنی جانور ذبح کرنے) سے نہیں ہو سکتی، کیونکہ خون بہانا عقلاً قربت نہیں ہے، اسے شرع کی وجہ سے ایک وقت مخصوص میں…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.