Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
صاحب نصاب کی بالغ اولاد کو زکوٰۃ دینا
- Fatwa no.
- 12187-Nor
- Issued
- 21 شوال المکرم 1443ھ / 23 مئی 2022 ء
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ بالغ و خود مختار اولا د محتاج و فقیر ہو جبکہ ماں محنت مزدوری کر کے حج کے فرئضہ کو پیسے جمع کرتی کرتی غنی اور صاحب استطاعت ہو جائے۔ تو اس صورت میں کیا اس صاحب استطاعت عورت کی بالغ اولاد کو زکوۃ دی جاسکتی ہے ؟ یا پھر ماں کی کمائی کو جواز بنا کر ایسی اولاد کی زکوۃ کی رقم سے مددنہ کریں ؟؟ رہنمائی فرمادیں۔
Answer (beginning)
صاحب نصاب شخص کی بالغ اولادا گر شرعی فقیر ہو تو اسے زکوۃ دی جاسکتی ہے کہ وہ اس معاملے میں اپنے والدین کے تابع نہیں، زکوۃ وصول کرنے میں بالغ افراد میں سے ہر فرد کی شرعا اپنی انفرادی حیثیت کا اعتبار ہوتا ہے۔ لہذا پوچھی گئی صورت میں اگر وہ بالغ اولاد مستحق زکوۃ ہے تو ماں کے صاحب نصاب ہونے سے وہ صاحب نصاب نہیں ہو جائے گی، اس صورت میں انہیں زکوۃ دی جاسکتی ہے جبکہ وہ سید ، ہاشمی نہ ہوں۔ چنانچہ فتاوی عالمگیری میں ہے : " ولا يجوز دفعها إلى ولد الغني الصغير كذافي التبيين- ولوكان کبیرا فقیر اجاز“ یعنی غنی کے نابالغ بچوں کو زکوۃ دینا شرعاً جائز نہیں، جیسا کہ تبیین میں مذکور ہے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.