Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

امام کون بن سکتا ہے ؟

Fatwa no.
12144-Nor

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ جو شخص نماز کے ضروری و بنیادی مسائل بھی نہ جانتا ہو ، ایسے شخص کو امام بنانا کیسا؟؟رہنمائی فرمادیں۔

Answer (beginning)

امامت کروانے کا اہل ہر وہ مسلمان مرد ہے جو عاقل، بالغ، صحیح القراءة، مسائل نماز وطہارت کا عالم ، غیر فاسق، شرعی اعذار مثلار یح و قطرہ وغیرہ کے امراض سے سلامت ہو۔ لہذا جس کے اندر یہ تمام تر شرائط پائی جائیں وہ ہی بالغ مردوں کی امامت کروانے کا اہل ہے ، اس کے علاوہ کسی دوسرے شخص کو ہر گز امامت کے مصلے پر کھڑا نہ کیا جائے۔ چنانچہ نور الایضاح میں ہے : ” شروط صحة الامامة للرجال الاصحاء ستة اشياء الاسلام والبلوغ والعقل والذكورة والقراءة والسلامة من الاعذار “ صحیح مردوں کی امامت کے صحیح ہونے کی چھ شرطیں ہیں : اسلام، بلوغ، عقل، مرد ہونا، قراءت کا صحیح ہونا اور اعذار سے سلامت ہونا۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.