Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

نفاس میں چُھٹے ہوئے روزوں کا فدیہ دینے کا کیا طریقہ ہے؟

Fatwa no.
12172-Nor

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اللہ عز و جل نے مجھے اس رمضان اولاد کی نعمت سے نوازا ہے، جس کی وجہ سے میری زوجہ اس بار ماہ رمضان کے روزے رکھنے سے قاصر رہی۔ آپ سے معلوم یہ کرنا ہے اس صورت میں ہم اگر ان چھوٹ جانے والے روزوں کا فدیہ ادا کرنا چاہیں، تو اس کا کیا طریقہ کار ہو گا؟ نیز ان روزوں کا فدیہ کتنا بنے گا؟؟ اس حوالے سے وضاحت کے ساتھ رہنمائی فرمادیں۔

Answer (beginning)

پوچھی گئی صورت میں نفاس کی وجہ سے جو روزے ٹچھٹ گئے آپ کی بیوی پر ان تمام روزوں کی قضا کرنا ہی فرض ہے، فدیہ دے کر وہ ان روزوں کی ادائیگی سے بری الذمہ نہیں ہو سکتی، کیونکہ روزے کے بجائے اس کا فدیہ ادا کرنے کا حکم فقط شیخ فانی کے لیے ہے، جس کی تمام تر تفصیل کتب فقہیہ میں مذکور ہے۔ شیخ فانی کے علاوہ دیگر افراد کے لیے روزوں کا کوئی فدیہ نہیں، بلکہ ان پر لازم ہے کہ عذر ختم ہونے کے بعد ان رہ جانے والے روزوں کی قضا کریں۔ ناپاکی کے ایام میں مجھٹے ہوئے روزوں کی قضا عورت پر لازم ہے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

Appears in topics

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.