Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

سجدہ تلاوت کی ادائیگی میں تاخیر کرنا کیسا؟

Fatwa no.
12168-Nor

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں اسکول میں موبائل فون پر قرآن پڑھتا ہوں، جب آیت سجدہ پڑھتا ہوں تو اس وقت اسکول میں فوراً میرے لیے سجدہ کرنا ممکن نہیں ہو تا۔ کیا میرے لیے شرعاًیہ گنجائش نکلتی ہے کہ میں آگے تلاوت جاری رکھوں اور گھر آکر سجدہ تلاوت کرلوں ؟؟ رہنمائی فرما دیں۔

Answer (beginning)

بیرونِ نماز آیت سجدہ پڑھی ہو تو اس صورت میں فی الفور سجدہ تلاوت کرنا واجب نہیں ہو تا، البتہ بہتر یہی ہے کہ فی الفور سجدہ تلاوت کر لیا جائے کہ بلاوجہ شرعی سجدہ تلاوت کی ادائیگی میں تاخیر کرناشر عامکروہ تنزیہی و نا پسندیدہ عمل ہے۔ لہذا صورتِ مسئولہ میں آپ گھر آکر بھی سجدہ تلاوت کر سکتے ہیں اس میں شرعاً کوئی گناہ والی بات نہیں۔ اور اسکول میں جگہ نہ ہونے کی وجہ سے فوری سجدہ نہیں کر پاتے تو کراہت تنزیہی کا ہونا بھی نہیں پایا جائے گا لیکن گھر آکر بھی تاخیر نہ ہو اس کا ضرور خیال رکھا جائے تا کہ بھول جانا نہ پایا جائے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.