Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
چیز نقد میں سستی اور قسطوں میں مہنگی بیچنا کیسا؟
- Fatwa no.
- 12145-Nor
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ پوری پیمنٹ ایک ساتھ کیش کرنے پر 100 والی چیز 90 میں بیچنا، اور قسطوں میں وہی چیز 150 کی بیچنا شرعا کیسا؟؟ رہنمائی فرما دیں۔
Answer (beginning)
اولاً تو یہ یادر ہے کہ ہر شخص کو اپنی چیز کم یازیادہ ریٹ میں فروخت کرنے کا مکمل اختیار ہے، شریعت میں اس کی کوئی ممانعت نہیں، بشر طیکہ سودا باہمی رضامندی سے ہو اور اس میں کسی قسم کی کوئی خلافِ شرع بات نہ پائی جائے۔ البتہ عموماً چیز نقد میں سستی اور ادھار میں مہنگی ہی بیچی جاتی ہے کوئی اور شرعی خرابی نہ ہو تو ایسا کرنے میں کوئی حرج نہیں، نیز قسطوں پر کوئی چیز فروخت کرنا یہ بھی دراصل ادھار بیج ہی کی ایک قسم ہے جس میں قیمت یکمشت لینے کے بجائے قسطوں میں وصول کی جاتی ہے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.