Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

مقتدی اگر قصداً واجب چھوڑے، تو کیا اسے کوئی رعایت ملے گی؟؟

Fatwa no.
12154-Nor

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ مقتدی اگر جماعت کے دوران قصد ا کوئی واجب چھوڑ دے، تو کیا اس کی نماز بھی واجب الاعادہ ہو جائے گی ؟ جیسا کہ منفرد کی نماز واجب الاعادہ ہوتی ہے یا پھر اس میں کوئی تفصیل ہے؟؟ ر ہنمائی فرمادیں۔

Answer (beginning)

جی ہاں ! پوچھی گئی صورت میں اس مقتدی کی نماز بھی واجب الاعادہ ہو جائے گی، کیونکہ نماز کے واجبات میں سے کسی بھی واجب کو قصد اترک کرنے سے نماز واجب الاعادہ ہو جاتی ہے ، اس مسئلے میں منفر د اور مقتدی کی کوئی تخصیص نہیں۔ البتہ مقتدی کے لیے اتنی رعایت ضرور ہے کہ امام کے پیچھے بھولے سے واجب چھوٹنے پر اس مقتدی پر سجدہ سہو واجب نہیں ہو تا۔ نماز کے کسی واجب کو عمد چھوڑ دینے کے حوالے سے فتاوی شامی میں مذکور ہے: ” (ولھا واجبات لا تفسد بترکها و تعاد وجوباً فى العمد ای بترك هذه الواجبات او واحد منها “ یعنی نماز میں کچھ واجبات ہیں جن کے ترک کرنے سے نماز فاسد نہیں ہوتی، البتہ ان واجبات کو یا ان میں سے کسی…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.