Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
نابالغ یا بالغ شخص کے ہاتھوں سے قرآن گرجائے، تو کیا حکم ہے؟
- Fatwa no.
- 12152-Nor
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر کسی شخص کے ہاتھ سے غلطی سے قرآن پاک گر جائے تو کیا حکم ہے ؟ کیا اس پر کوئی صدقہ نکالناضروری ہو جاتا ہے؟ نیز اگر کسی نابالغ بچے سے قرآن پاک گر جائے تو اس صورت میں کیا حکم ہو گا ؟ ؟ رہنمائی فرمادیں۔ سائل : نعمان رضا (via، میل)
Answer (beginning)
پوچھی گئی صورت میں بلا تاخیر فوراً قرآن پاک کو اٹھا لیا جائے ، اس صورت میں نہ تو کوئی گناہ ہے اور نہ ہی کوئی کفارہ ہے کہ اس امت سے اللہ عزو جل نے خطا کو معاف کر دیا ہے۔ البتہ اگر کوئی دلی اطمینان کے لیے کچھ صدقہ کرنا چاہے تو شرعاً اس میں کوئی حرج بھی نہیں، بشر طیکہ اس صدقہ کرنے کو وہ ضروری نہ سمجھتا ہو۔ مفتی شریف الحق امجدی علیہ الرحمہ بلا قصد قرآن پاک ہاتھ سے چھوٹ جانے کے متعلق کیے گئے ایک سوال کے جواب میں ارشاد فرماتے ہیں: " (صورتِ مسئولہ میں ) ہندہ پر کوئی الزام نہیں، خصوصاً ایسی صورت میں کہ وہ تو بہ بھی کر رہی ہے۔ حدیث میں ہے: " رفع عن امتى الخطاء والنسيان " ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.