Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

امام صاحب کا فرض کی تیسری رکعت میں بلند آواز سے تعوذ و تسمیہ پڑھنا کیسا؟

Fatwa no.
12119-Nor

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ امام صاحب نے فرض کی تیسری رکعت میں بلند آواز سے تعوذ و تسمیہ پڑھ لیا، تو کیا اس صورت میں سجدہ سہو کرنا واجب ہو گا؟؟ رہنمائی فرمادیں۔

Answer (beginning)

پوچھی گئی صورت میں امام صاحب پر سجدہ سہو واجب نہیں ہو گا۔ مسئلہ کی تفصیل یہ ہے کہ نماز میں تعوذ و تسمیہ آہستہ آواز سے پڑھنا سنت ہے اور سنت کے ترک پر سجدہ سہو واجب نہیں ہوتا۔ پوچھی گئی صورت میں تیسری رکعت کی ابتداء میں تعوذ پڑھنے کا خاص موقع تو نہیں تھا لیکن یہ محل ثناء کا ضرور ہے جس کی بنا پر تعوذ پڑھنے پر بھی کوئی قابل گرفت حکم نہیں ہو گا۔ نیز فقہائے کرام کی تصریحات کے مطابق اگر نمازی فرضوں کی آخری دور کعتوں میں یا پھر مغرب کی تیسری رکعت میں تشہد پڑھ لے تو مطلقاً اس پر سجدہ سہو واجب نہیں ہو گا کہ ان رکعات میں نمازی کو تسبیح پڑھنے ، خاموش رہنے اور قراءت کا اختیار ہے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.