Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

کیا مکان کے لیے جمع شدہ رقم پر زکوٰۃ فرض ہوگی؟

Fatwa no.
12138-Nor
Issued
26 رمضان المبارک 1443ھ / 28 اپریل 2022ء

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ زید کے پاس صرف روپیہ ہے لیکن وہ روپیہ زید مکان بنانے کے لئے جمع کرہا ہے، کیونکہ زید کا اپناذاتی مکان نہیں ہے۔ اس صورت میں اس رقم کی زکوۃ کا کیا حکم ہو گا؟؟ رہنمائی فرما دیں۔سائل: احمد (via، میل)

Answer (beginning)

پوچھی گئی صورت میں اگر یہ رقم قرض اور حاجت اصلیہ سے فارغ ہو کر نصاب کے برابر پہنچتی ہے ، تو اس صورت میں نصاب کا سال مکمل ہونے پر اس رقم کی زکوۃ نکالنا بلا شبہ زید پر فرض ہو گا، کیونکہ فقہائے کرام کی تصریحات کے مطابق مکان خریدنے کی نیت سے رقم رکھ لینا حاجت اصلیہ میں داخل نہیں۔ چنانچہ فتاوی شامی میں ہے: ”اذا امسکه لینفق منه كل ما يحتاجه فحال الحول وقد بقى معه منه نصاب فانه یز کی ذلک الباقی، وان كان قصده الانفاق منه ايضاً في المستقبل لعدم استحقاق صرفه الى حوائجه الاصلية وقت حولان الحول، بخلاف ما اذا حال الحول وهو مستحق الصرف اليها يعنى جب مال اس نیت سے روکے رکھا کہ جو حاجت ہو گی اس میں خرچ کروں…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.