Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
اگر غلطی سے وقت سے پہلے افطار کرلیا تو کیا حکم ہے؟
- Fatwa no.
- 12137-Nor
- Issued
- 26 رمضان المبارک 1443ھ / 28 اپریل 2022ء
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر روزے دار نے غلطی سے ٹائم سے پہلے ہی افطار کر لیا، جبکہ اسے روزہ دار ہونا یاد بھی تھا۔ تو کیا اس کا وہ روزہ ادا ہو جائے گا؟؟ رہنمائی فرما دیں۔ سائل : سلمان ارشد (via، میل)
Answer (beginning)
پوچھی گئی صورت میں اس شخص کا وہ روزہ ادا نہیں ہوا، لہذا اس شخص پر لازم ہے کہ وہ اس روزے کی قضا کرے اور آئندہ اس معاملے میں احتیاط سے کام لے۔ چنانچہ المختصر القدوری میں ہے: ”و من تسحر وهو يظن أن الفجر لم يطلع أو أفطر وهو يرى أن الشمس قد غربت ثم تبين أن الفجر قد طلع أو أن الشمس لم تغرب قضى ذلک الیوم ولا کفارۃ علیہ“ یعنی کسی شخص نے سحری کی حالانکہ اسے فجر طلوع نہ ہونے کا گمان تھا یا پھر افطار کیا حالانکہ اسے سورج غروب ہونے کا گمان تھا، بعد میں اسے معلوم ہوا کہ فجر تو طلوع ہو چکی تھی یا پھر سورج ابھی غروب ہی نہیں ہوا تھا، تو اب ان دونوں صورتوں میں اس پر اس دن کے روزے کی قضا لازم ہے کفارہ لازم…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.