Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
حیض کی حالت میں اذان کا جواب دینا اور اذان کے بعد کی دعا پڑھنا
- Fatwa no.
- 12132-Nor
Question
کیسا؟ دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اسلامی بہن مخصوص ایام میں اذان کا جواب اور اذان کے بعد کی دعا پڑھ سکتی ہے ؟؟ رہنمائی فرمادیں۔ سائلہ ناز یہ عطاریہ (via، میل)
Answer (beginning)
مخصوص ایام میں عورت کا اذان کا جواب دینا، یو نہی اذان کے بعد والی دعا پڑھنا، شرعاً جائز ہے۔ چنانچہ فتاوی عالمگیری میں ہے: ” ويجوز للجنب والحائض الدعوات وجواب الأذان ونحو ذلك في السراجية “ یعنی جنبی شخص اور حائضہ عورت کے لیے دعائیں پڑھنا، اذان کا جواب دینا اور اسی کی مثل دیگر اذکار وغیرہ پڑھنا شرعاً جائز ہے، جیسا کہ سراجیہ میں مذکور ہے۔ (فتاوی عالمگیری، کتاب الطهارة، ج 01،ص38، مطبوعہ پشاور) بہارِ شریعت میں ہے: ”ایسی عورت کو اذان کا جواب دینا جائز ہے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.