Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
نابینا شخص کو صدقہ فطر دینے کا حکم
- Fatwa no.
- 12127-Nor
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میری خالہ کا بالغ بیٹا ہے جو بیماری کی وجہ سے نابینا ہو گیا ہے، اس کا کوئی ذریعہ آمدنی بھی نہیں ہے۔ تو کیا میں اسے صدقہ فطر دے سکتا ہوں ؟؟رہنمائی فرما دیں۔سائل: (via، میل)
Answer (beginning)
پوچھی گئی صورت میں اگر وہ لڑکا سید یا ہاشمی نہیں ہے اور شرعی فقیر بھی ہے ( یعنی اس کی ملکیت میں قرض اور حاجتِ اصلیہ نکال کر ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت برابر کسی قسم کا زائد سامان موجود نہیں ہے) تو اس صورت میں آپ اسے صدقہ فطر دے سکتے ہیں۔ چنانچہ تنویر الابصار مع الدر المختار میں ہے: ” (باب المصرف) ای مصرف الزكاةوالعشر(هوفقير، وهو من له ادنی شیء) ای دون نصاب یعنی زکوۃ اور عشر کا ایک مصرف فقیر بھی ہے اور فقیر سے مراد وہ شخص ہے جو نصاب سے کم مال کا مالک ہو۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.