Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

کیا جوں کا خون پاک ہوتا ہے؟

Fatwa no.
12109-Nor

Question

(دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ کیا جوں کا خون پاک ہوتا ہے، بہت سے لوگ کہتے ہیں کہ یہ نا پاک ہوتا ہے ؟؟ ر ہنمائی فرمادیں۔ سائل : ذیشان شیخ (via، میل)

Answer (beginning)

جوں کا خون پاک ہوتا ہے ، بدن یا کپڑوں پر جوں کا خون لگ جانے سے وہ کپڑے ناپاک نہیں ہونگے۔لہذا لوگوں کا اسے ناپاک کہنا شرعی اعتبار سے درست نہیں۔ چنانچہ فتاوی عالمگیری میں ہے : ” ودم البق والبراغيث والقمل والكتان طاهر وإن كثر كذافي نی کٹھمل ، پسو، جوں اور کتان (سرخ رنگ کا کیڑا جو شدید کاتا ہے) کا خون پاک ہے،اگرچہ کثیر السراج الوهاج “ یعنی مقدار میں ہو ، جیسا کہ سراج الوہاج میں مذکور ہے۔ (فتاوی عالمگیری، کتاب الطهارة، ج 01، ص 46، مطبوعہ پشاور) فتاوی شامی میں ہے : ” ( ودم سمك و قمل وبرغوث وبق) أي: وإن كثر بحر ومنیۃ۔۔۔۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.