Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

بیماری کی وجہ سے دوسرے کی طرف سے روزہ رکھنا؟

Fatwa no.
12095-Nor
Issued
07 رمضان المبارک 1443ھ / 109 اپریل 2022 ء

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ کیا کسی بیمار شخص کی طرف سے کوئی اور شخص رمضان کے فرض روزے رکھ سکتا ہے ؟ شریعت اس بارے میں ہماری کیار ہنمائی کرتی ہے ؟ سائل: نزاکت

Answer (beginning)

اولاً تو یہ مسئلہ ذہن نشین رہے کہ ایسا بیمار شخص کہ جسے روزے رکھنے سے ہلاک ہو جانے یا پھر شدید بیمار ہو جانے کا غالب گمان ہو ، تو ایسے بیمار شخص کو فی الحال رمضان کے روزے چھوڑنے کی اجازت ہے، البتہ صحت یاب ہونے کے بعد اسے ان سب روزوں کی قضا کرنا ہو گی۔ ہاں! اگر اسے بیماری و غیرہ کسی شرعی عذر کے سبب ان روزوں کی قضا کا موقع ہی نہ ملے ، یہاں تک کہ وہ شیخ فانی کے حکم کو پہنچ جائے تو اب اسے ان روزوں کے بدلے میں فدیہ دینے کی اجازت ہو گی، جس کی تفصیل کتب فقہ میں مذکور ہے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.