Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

15دن سے زائد قیام کرنا ہو تو کیا پھر بھی دوران سفر قصر کریں گے؟

Fatwa no.
12089-Nor
Issued
04 رمضان المبارک 1443ھ / 106 اپریل 2022ء

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر میں اپنے شہر سے 92 کلو میٹر دور کا سفر کروں اور جہاں مجھے جانا ہے وہاں میرا قیام بھی 15 دن سے زائد کا ہے۔ آپ سے معلوم یہ کرنا ہے کہ اس صورت حال میں کیا مجھے دورانِ سفر قصر نماز پڑھنا ہو گی ؟؟ رہنمائی فرما دیں۔ سائل : مدثر علی

Answer (beginning)

پوچھی گئی صورت میں آپ اپنے شہر کی شرعی حدود یعنی شہر کی آبادی اور اس شہر سے متصل فنائے شہر سے نکلنے کے بعد ، اور دوسرے شہر کی شرعی حدود میں داخل ہونے سے پہلے تک ، راستے بھر قصر نماز پڑھیں گے۔ فتاوی عالمگیری میں ہے: ”قال محمد رحمه الله تعالى: يقصر حين يخرج من مصره ويخلف دور المصر، كذا في المحيط “ یعنی امام محمد رحمہ اللہ تعالی نے فرمایا کہ آدمی جب اپنے شہر سے نکل جائے اور اس کے شہر کے پیچھے رہ جائیں ، تو اس وقت وہ قصر شروع کرے گا، ایسا ہی محیط میں ہے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.