Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
کیا بغیر شہوت کے منی نکلنے سے بھی غسل فرض ہوجاتا ہے؟
- Fatwa no.
- 12085-Nor
- Issued
- 03 رمضان المبارک 1443ھ / 05 اپریل 2022ء
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ شہوت کے بغیر اگر منی خارج ہو جائے ، تو کیا اس صورت میں بھی غسل فرض ہو جاتا ہے ؟؟ ر ہنمائی فرما دیں۔ سائل: غیاث احمد
Answer (beginning)
جی نہیں ! بغیر شہوت کے منی خارج ہونے سے غسل فرض نہیں ہوتا۔ البتہ اس صورت میں وضو ٹوٹ جائے گا، نیز یہ منی کپڑے یا بدن کے جس حصے پر لگے گی اس حصے کو بھی پاک کرنا ہو گا۔ چنانچہ فتاوی عالمگیری میں ہے: "رجل بال فخرج من ذكره مني إن كان منتشرا عليه الغسل وإن كان منكسرا عليه الوضوء۔ کذا فی الخلاصہ یعنی کسی شخص نے پیشاب کیا تو اس کے عضو مخصوص سے منی بھی ساتھ ہی خارج ہو گئی ، پس اگر منی اس حال میں خارج ہوئی کہ آلہ منتشر تھا تو اس پر غسل فرض ہے ، ورنہ آلہ منتشر نہ ہونے کی صورت میں وضو لازم ہو گا، جیسا کہ خلاصہ میں مذکور ہے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.