Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

نمازی کے آگے سے اگر کوئی شخص گزر جائے، تو کیا نماز ٹوٹ جائے گی؟

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ نمازی کے آگے سے اگر کوئی شخص گزر جائے، تو کیا اس صورت میں نماز ٹوٹ جائے گی ؟

Answer (beginning)

جی نہیں ! پوچھی گئی صورت میں نمازی کی نماز نہیں ٹوٹے گی۔ چنانچہ تنویر الابصار مع الدر المختار اور دیگر کتب فقہیہ میں مذکور ہے : ” ( ولا يفسدها نظره إلى مكتوب وفهمه و مرور مار في الصحراء او فی مسجد کبیر بموضع سجوده) فی الاصح (او) مروره (بین یدیه) الی حائط القبلة (في) بیت و (مسجد) صغير، فانه كبقعة واحدة (مطلقاً)۔۔۔۔ (وان اثم المار) “ یعنی نمازی کا لکھے ہوئے مضمون کی طرف نظر کرنا اور اسے سمجھنا نماز کو فاسد نہیں کرتا۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.