Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
بے وضو غلاف میں لپٹے قرآن کو چھونے کا کفارہ کیا ہے؟
- Answered by
- ابو محمد مفتی علی اصغر عطاری مدنی
- Fatwa no.
- 13803-Nor
- Issued
- 29 شوال المکرم 1446ھ / 28 اپریل 2025ء
Answer (beginning)
سوال بسم الله الرحمن الرحيم بے وضو بھولے سے غلاف میں لیٹے قرآن کریم کو چھونے کا کفارہ کیا ہے ؟ دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر قرآن پاک کو الگ سے غلاف میں لپیٹ کر کہیں رکھا ہو ، اور بے وضو شخص بے خیالی میں اُس غلاف کو چھولے ، تو اُس پر کیا کفارہ لازم ہوگا ؟ جواب بے وضو شخص کا بلا حائل قرآن پاک کو چھونا ، ناجائز و حرام ہے ، یونہی ایسے کسی حائل سے چھونا بھی نا جائز ہے کہ جو اپنے یا پھر قرآن پاک کے تابع ہو۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.