Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
قعدہ اولیٰ میں بھولے سے درود پاک پڑھنا
- Answered by
- ابو محمد مفتی علی اصغر عطاری مدنی
- Fatwa no.
- 13802-NOR
- Issued
- 29 شوال المکرم 1446ھ / 28 اپریل 2025. دار الافتاء اهلسنت
Answer (beginning)
بسم الله الرحمن الرحيم قعدہ اولیٰ میں بھولے سے درود پاک پڑھنے کا حکم ؟ دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) سوال کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ نمازی اگروتر کے قعدہ اولی میں بھولے سے التحیات کے بعد مکمل درود پاک پڑھ لے ، تو کیا اس صورت میں اُسے وہ نماز لوٹانا ہوگی ؟ جواب فرض ، وتر اور سنت مؤکدہ کے قعدہ اولیٰ میں تشہد کے بعد درود پاک نہ پڑھنا واجب ہے کہ اس صورت میں تیسری رکعت کے قیام میں تاخیر پائی جاتی ہے ۔ مفتی بہ قول کے مطابق "اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ " ایک پڑھنے پر یہ ترک واجب ثابت ہو جاتا ہے ، اور نماز کے کسی بھی واجب کو بھولے سے ترک کرنے پر سجدہ سہو واجب ہوتا ہے ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.