Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
نماز کے قعدے میں پاؤں کی انگلیاں قبلہ رو نہ کرنا کیسا؟
- Answered by
- ابو محمد مفتی علی اصغر عطاری مدنی
- Fatwa no.
- 13759-NOR
- Issued
- 19 شوال المکرم 1446 ھ 18 اپریل 2025 ء
Answer (beginning)
بسم الله الرحمن الرحيم قعدے میں پاؤں کی انگلیوں کو قبلہ رو نہ کرنا کیسا ؟ دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) سوال کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ امام صاحب اگر قعدے میں پاؤں کی انگلیوں کو عذر کی بنا پر یا پھر بغیر عذر ہی کے قبلہ رو نہ کریں، تو کیا اس صورت میں نماز ادا ہو جائے گی ؟ جواب جی ہاں ! پوچھی گئی صورت میں امام صاحب کی نماز درست ادا ہو جائے گی، کیونکہ مرد کے لیے قعدے میں سیدھا پاؤں کھڑا کر کے پاؤں کی انگلیاں قبلہ رخ کرنا سنت ہے اور سنت کے ترک سے نماز فاسد نہیں ہوتی ، لیکن بلاعذر شرعی سنت کو ترک نہیں کرنا چاہیے ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.