Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
بیوی اور اُس کی ماں شریک بہن سے نکاح کرنا کیسا؟
Question
بیوی اور اُس کی ماں شریک بہن سے نکاح کرنا کیسا ؟ دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہندہ کی بیٹی کا نام خاتون ہے جو کہ ہندہ کے پہلے شوہر سے ہے ۔ پہلے شوہر کے انتقال کے بعد ہندہ نے دوسر انکاح کیا ، دوسرے شوہر سے ہندہ کی بیٹی بیگم پیدا ہوئی ۔ اب زید کا نکاح ہندہ کی بیٹی خاتون سے ہوا ہے ۔ معلوم یہ کرنا ہے کہ کیا زید ہندہ کی دوسری بیٹی بیگم کو بھی اپنے نکاح میں لاسکتا ہے ؟ جواب
Answer (beginning)
پوچھی گئی صورت میں زید کا اپنی بیوی خاتون کی ماں شریک بہن بیگم سے نکاح حرام قطعی ہے کہ قرآن و حدیث کی روشنی میں بیوی کے نکاح یا عدت میں ہوتے ہوئے سالی یعنی بیوی کی بہن سے نکاح کرنا ، ناجائز و حرام ہے ۔ اب خواہ بیوی کی حقیقی بہن ہو یا باپ شریک ہو یا ماں شریک ہو یا پھر رضاعی بہن ہو ، بہر صورت بیوی کے نکاح میں ہوتے ہوئے یہ نکاح سخت ناجائز و حرام ہے ۔ دو بہنوں کو ایک ساتھ نکاح میں جمع کرنا حرام ہے جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے : وَ اَنْ تَجْمَعُوا بَيْنَ الْأَخْتَيْنِ ترجمہ کنز الایمان : اور دو بہنیں اکٹھی کرنا حرام ہے) ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.