Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
دیور کی بیوی سیدہ ہو تو دیور کو زکوۃ دینے کا حکم؟
- Answered by
- ابو محمد مفتی علی اصغر عطاری مدنی
- Fatwa no.
- 13745-Nor
- Issued
- 20 رمضان المبارک 1446 هـ / 21 مارچ 2025 ء
Question
دیور کی بیوی سیدہ ہو تو کیا دیور کوزکوۃ دی جا سکتی ہے ؟ دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ کیا دیور کو زکوۃ دی جا سکتی ہے ، جبکہ اُس کی بیوی سیدہ ہو ؟ جواب
Answer (beginning)
پوچھی گئی صورت میں دیوراگر شرعی فقیر ہے تو اُسے زکوۃ دینا شرعاً جائز ہے ، کیونکہ جن قریبی رشتہ داروں کو زکوۃ دینا، ناجائز ہے دیور کا شمار اُن رشتہ داروں میں نہیں ہوتا ، نیز سیدہ کا شوہر اگر مستحق زکوۃ ہو تو اسے بھی زکوۃ دی جاسکتی ہے ، اس میں شرعاً کوئی حرج والی بات نہیں۔ شرعی فقیر زکوۃ کا مصرف ہے چنانچہ تنویر الابصار مع الدر المختار وغیرہ کتب فقہیہ میں مذکور ہے : ” (باب المصرف) اى مصرف الزكاة والعشر۔۔۔۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.