Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
صلاۃ التسبیح کی آخری دو رکعت میں سورۃ ملانا ضروری ہے؟
- Fatwa no.
- 13744-Nor
- Issued
- 19 رمضان المبارک 1446ھ /20 مارچ 2025 ء
Question
صلاة التسبیح کی آخری دو رکعت میں سورۃ ملانا ضروری ہے ؟ دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ مجھے صلاۃ التسبیح کا طریقہ تو معلوم ہے کہ اس میں تیسرا کلمہ اس اس جگہ اور اتنی اتنی مقدار میں پڑھنا ہوتا ہے ؟ لیکن مجھے کنفیوزن یہ ہے کہ صلاۃ التسبیح کی تیسری اور چوتھی رکعت میں فقط سورۃ الفاتحہ ہی پڑھیں گے ؟ جیسا کہ چار رکعت فرائض کی تیسری اور چوتھی رکعت میں پڑھتے ہیں یا پھر فاتحہ کے بعد سورت بھی ملائیں گے ؟ میری اس کنفیوزن کو دور فرما دیں ۔ جواب
Answer (beginning)
فرض نماز کی پہلی دو رکعتوں اور سنن و نوافل و وتر کی ہر رکعت میں سورۃ الفاتحہ کے بعد سورت کا ملانا واجب ہے، لہذا صلاۃ التسبیح کی تیسری اور چوتھی رکعت میں بھی سورۃ الفاتحہ کے بعد سورت کا ملانا واجب ہے ۔ اگر نمازی نے بھولے سے اس واجب کو ترک کیا تو سجدہ سہو واجب ہوگا، جبکہ قصداً اس واجب کو ترک کرنے کی صورت میں وہ نماز ہی واجب الاعادہ ہوگی ۔ سن و نوافل کی تمام رکعتوں میں سورۃ الفاتحہ کے بعد سورۃ ملانا واجب ہے جیسا کہ تنویر الابصار مع در المختار وغیرہ کتب فقہیہ میں مذکور ہے : ”(وضم)۔۔۔(سورۃ)۔۔۔(فی الاولیین من الفرض)۔۔۔ (و) فی (جميع) رکعات (النفل)؛ لان كل شفع منه صلاة (و) كل (الوتر)۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.