Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

کیا چھ ماہ بعد پیدا ہونے والا بچہ جائز تصور ہوگا؟

Question

کیا چھ ماہ بعد پیدا ہونے والا بچہ جائز تصور ہوگا ؟ دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ شادی کے چھ ماہ بعد پیدا ہونے والا بچہ کیا جائز تصور ہو گا ؟ جواب

Answer (beginning)

حمل کی کم از کم مدت چھ ماہ ہے ، لہذا نکاح کے پورے چھ مہینے یا اس سے زائد عرصے میں پیدا ہونے والا بچہ جائز اور ثابت النسب شمار ہوگا ۔ چنانچہ فتاوی عالمگیری، جوہرۃ النيرة، بدائع الصنائع ، مبسوط وغیرہ کتب فقہیہ میں ہے : ” والنظم للاول “ إذا تزوج الرجل امرأة فجاءت بالولد لأقل من ستة أشهر منذ تزوجها لم يثبت نسبه، وإن جاءت به لستة أشهر فصاعدا يثبت نسبه منه اعترف به الزوج أوسکت۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.