Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
نابالغ سمجھدار بچہ بغیر ثواب کی نیت کے پانی میں ہاتھ ڈال دے، تو کیا وہ پانی مستعمل ہوجائے گا؟
- Fatwa no.
- 12731-Nor
- Issued
- 01 شعبان المعظم 1444ھ /22 فروری 2023ء
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر سمجھدار نابالغ بچہ بغیر ثواب کی نیت سے پانی میں اپنا بے دھلا ہاتھ ڈالے، تو کیا پانی مستعمل ہو جائے گا؟
Answer (beginning)
مستعمل پانی سے مراد وہ پانی ہے جسے قربت (نیکی) کے ارادے سے یا پھر حدث دور کرنے کے لئے استعمال کیا گیا ہو، پوچھی گئی صورت میں نہ ہی اس پانی سے حدث دور ہوا کہ بچے پر حدث طاری نہیں ہو تا اور نہ ہی اس سمجھدار بچے کا مقصود کسی قربت کا حصول تھا، لہذا پوچھی گئی صورت میں وہ پانی مستعمل نہیں ہو گا۔ مستعمل پانی کی تعریف تنویر الابصار مع الدر المختار میں یوں مذکور ہے : ”ماء استعمل لاجل قربة أولاجل رفع حدث “ یعنی مائے مستعمل سے مراد وہ پانی ہے جسے قربت کے حصول یا حدث دور کرنے کے لئے استعمال کیا گیا ہو۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.