Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

بغیر وضو کے احرام باندھنے کا حکم

Issued
ماہنامہ فیضانِ مدینہ اپریل 2025ء

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے میں کہ ہم عمرے کے لئے روانگی کے وقت گھر سے ہی غسل وغیرہ کر کے احرام کی چادریں پہن لیتے ہیں، لیکن ابھی عمرے کی نیت سے تلبیہ نہیں کہتے ، بلکہ جب جدہ آنے والا ہو تو میقات سے پہلے فلائٹ کے دوران تلبیہ کہتے ہیں، بعض اوقات اس دوران وضو بر قرار نہیں رہتا، تو کیا بغیر وضو بھی احرام باندھ سکتے ہیں؟

Answer (beginning)

باوضو ہونا احرام کے لئے ضروری نہیں، اگر کوئی بغیر وضو بھی عمرے کی نیت سے تلبیہ کہے تو اس کا احرام اور پابندیاں شروع ہو جاتی ہیں، البتہ وضو کی اہمیت و فضائل بے شمار ہیں حتی کہ ہر وقت باوضور ہنا مستحب ہے، پھر جبکہ سفر بیت اللہ شریف کا ہو تو اس کا خاص اہتمام ہونا چاہئے کہ حتی المقدور باوضو ر ہا جائے، خصوصاً احترام یعنی عمرے یا حج کی نیت سے تلبیہ کہتے وقت باوضو ہونا، جدا گانہ سنت ہے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.