Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
دورانِ نماز نمازی کا سینہ نظر آرہا ہو تو؟
- Issued
- ماہنامہ فیضانِ مدینہ اپریل 2025ء
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس بارے میں کہ اگر نماز کے دوران نمازی کی قمیص کے بٹن کھلے ہوں حتی کہ سینہ نظر آرہا ہو ، تو نماز کا کیا حکم ہو گا ؟
Answer (beginning)
اگر نماز کے دوران نمازی کے سینے کے بٹن کھلے ہوں اور سینے کا اتنا حصہ نظر آرہاہو ، جتناعام طور پر ہذب آدمی کے سینے کا حصہ نظر آتا ہے، تو اس میں کچھ حرج نہیں، البتہ اگر اس سے زیادہ حصہ نظر آرہا ہو کہ اس حالت میں کوئی مہذب و سلجھا ہوا شخص لوگوں کے مجمع یا بازار میں نہ جائے یا جائے، تو اسے خفیف الحرکات وبے ادب سمجھا جائے یا مکمل سینہ کھلا ہو، تو اس حالت میں نماز پڑھنا مکروہ تنزیہی ہے، کیونکہ اس کا حکم کام کاج اور روز مرہ کے پہنے جانے والے اُن کپڑوں کی طرح ہو گا، جنہیں مہذب آدمی پہن کر بزرگوں اور معزز لوگوں کے سامنے جانے سے عار محسوس کرتا ہے اور پہن کر جائے، تو اُسے بے ادب اور خفیف الحرکات سمجھا…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.