Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
معتکف کا جنازہ میں شرکت کرنا کیسا؟
- Issued
- ماہنامہ فیضانِ مدینہ مارچ 2025
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ بیٹی یا کسی قریبی ذی محرم رشتہ دار کی فوتگی کے سبب معتکف کو اعتکاف توڑنے کی اجازت ہے یا نہیں؟
Answer (beginning)
جی ہاں، اگر معتکلف کا کوئی ذی محرم رشتہ دار فوت ہو جائے تو اسے جنازہ میں شرکت کے لیے اعتکاف توڑنے کی اجازت ہے ، اس سے معتکف گناہ گار نہیں ہو گا، البتہ یہ یاد رہے کہ جس دن اعتکاف تو ڑا بعد میں اس ایک دن کی قضاء کرنی ہو گی۔ وَاللهُ أَعْلَمُ عَلا جَل وَرَسُولُهُ أَعْلَم صَلَّى اللَّهُ تَعَالَ عَلَيْهِ وَالِهِ وَسَلَّم دار الافيا اهلك Dar-ul-IftaAhlesunnat (Dawat-e-Islami) www.fatwaqa.com Dar-ul-ifta AhleSunnat fdaruliftaahlesunnat feedback@daruliftaahlesunnat.net DaruliftaAhlesunnat
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.