Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
نسوار رکھ کر سوگئے اور سحری کا وقت گزر گیا؟
- Issued
- ماہنامہ فیضانِ مدینہ مارچ 2025
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ رمضان المبارک میں سحری کرنے کے بعد 4:20 پر ایک شخص نے منہ میں نسوار رکھی اور اس کو نیند آگئی اور 4:40 پر سحری کا وقت ختم ہو رہا ہے ، جب اس کی آنکھ کھلی 5:00 بج گئے تھے ، اب پوچھنا یہ تھا کہ ایسی صورت میں روزے کا کیا حکم ہے؟
Answer (beginning)
پوچھی گئی صورت میں روزے کا وقت شروع ہونے پر نسوار کے منہ میں رہنے سے مذکورہ شخص کا روزہ ٹوٹ گیا؛ کیونکہ نسوار منہ میں رکھنے سے عام طور پر اس کے اجزاء حلق سے نیچے اترتے ہیں، لہذا اس پر ایک دن کی قضاء لازم ہو گی، یعنی اس روزے کے بدلے میں ایک روزہ رکھنا پڑے گا، نیز مذکورہ شخص پر بقیہ دن روزے داروں کی طرح رہنا واجب ہو گا؛ کیونکہ اصول یہ ہے کہ ہر وہ شخص جو دن کے کسی حصہ میں ایسی حالت میں ہو گیا کہ اس کی یہ حالت اگر دن کی ابتدا میں (یعنی سحری کے وقت) ہوتی، تو اس پر روزہ رکھنا لازم ہو تا، تو ایسے شخص کے لئے روزہ نہ ہونے کے باوجو د بقیہ دن روزہ داروں کی طرح رہنا واجب ہوتا ہے، البتہ کفارہ نہیں ہو گا؛…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.