Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

عقیقے کی بکری کے پیٹ سے بچہ نکلا تو عقیقے کا حکم؟

Issued
ماہنامہ فیضانِ مدینہ فروری 2025

Question

دار الافتاء ابلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ مجھے اپنی بیٹی کا عقیقہ کرنا تھا تو کل منڈی سے ایک بکری لایا، ذبح کرنے کے بعد پتا چلا کہ وہ حاملہ تھی اور اس کے پیٹ سے مرا ہوا بچہ نکلا۔ معلوم یہ کرنا ہے کہ اس صورت میں بیٹی کا عقیقہ ہو گیا یا نہیں؟ نیز پیٹ سے جو مر ا ہوا بچہ نکلاوہ حلال ہے یا حرام ؟ اس کی بھی وضاحت کر دیں۔

Answer (beginning)

دریافت کی گئی صورت میں آپ کی بیٹی کا عقیقہ ہو گیا کیونکہ عقیقہ درست ہونے کے لیے جانور کا حاملہ نہ ہو ناشرط نہیں بلکہ اس کے لئے انہیں تمام شرائط کالحاظ ضروری ہے کہ جو قربانی کے جانور میں ہیں اور حاملہ جانور کی قربانی جائز ہے البتہ حاملہ ہونا معلوم ہو تو بہتر یہ ہے کہ اس کے علاوہ دوسرا جانور قربان کیا جائے تو یہی تفصیل عقیقہ میں جاری ہو گی۔ نیز جانور ذبح کرنے سے پیٹ میں موجود بچہ حلال نہیں ہو جا تا بلکہ زندہ پیدا ہونے کی صورت میں اسے الگ سے ذبح کرنا ہو گا اور اگر مرا ہوا پیدا ہوا تو وہ مردار ہے، صورت مسئولہ میں بھی چونکہ بچہ مرا ہوا پیدا ہوا لہذاوہ مردار ہے اسے کھانا حلال نہیں۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.