Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
دہ در دہ سے کم پانی کب مستعمل ہوگا؟
- Issued
- ماہنامہ فیضانِ مدینہ فروری 2025
Question
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ پچھلے دنوں ہمارے ہاں کافی بارش ہوئی تو ہم نے گھر میں رکھے ہوئے فارغ ڈرم میں بارش کا پانی بھر لیا کہ وضو وغیرہ میں استعمال کریں گے اور پھر ہم استعمال بھی کرتے رہے، ایک دن جب میں فجر کی نماز کے بعد واپس آیا تو بچوں کی امی نے پوچھا کہ آپ نے وضو کس پانی سے کیا ؟ میں نے بتایا کہ ڈرم کے پانی سے ، تو انہوں نے بتایا کہ رات کو میں نے غلطی سے بے وضو ہاتھ اس میں دھو لیے تھے ، آپ سوئے ہوئے تھے تو اس وقت نہیں بتایا ، یہی ذہن تھا کہ جب فجر میں اٹھیں گے تو بتادوں گی۔ اس صورت میں میری فجر کی نماز ہوئی یا نہیں؟ نوٹ : ڈرم دہ دردہ سے چھوٹا ہے اور بچوں کی والدہ اگر چہ عام عورتوں کی طرح شرعی معاملات میں کو تاہی کر جاتی ہیں مگر ان کی اس بات پر میر ابھی غالب گمان یہ ہے کہ وہ درست کہہ رہی ہے ؟
Answer (beginning)
دہ در وہ سے کم پانی میں بے وضو شخص کا بے دھلا ہاتھ پڑ جائے تو وہ پانی مستعمل ہو جاتا ہے اور مستعمل پانی صحیح مذہب کے مطابق خود اگر چہ پاک ہے مگر اس میں نجاست حکمیہ دور کرنے کی صلاحیت نہیں ہوتی ، اس لیے اس سے وضو و غسل نہیں ہو تا۔ نیز پانی وضو و غسل کے قابل ہے یا نہیں ؟ اس خبر کا تعلق دینی امور سے ہے اور اس میں ایک عادل شخص کی خبر معتبر ہوتی ہے اگر چہ عورت ہو اور اگر خبر دینے والا فاسق یا مستور الحال ہو یعنی عادل ہے یا نہیں، اس کا علم نہ ہو تو اس صورت میں اس کی بات پر تحری کرنے کا حکم ہے، اگر دل اس بات پر جھے کہ وہ درست کہہ رہا ہے تو اس کی بات پر عمل کیا جائے گا۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.