Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

سپلائیر کا دوکاندار کو اس لئے رقم دینا کہ کسی اور کا مال نہ رکھے؟

Issued
ماہنامہ فیضانِ مدینہ جنوری 2025ء

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہم بیکری آئٹم (بسکٹ، کیک وغیرہ) دوکانوں پر جا کر بیچتے ہیں، اور دوکان دار کسی دوسرے کا مال اپنی دوکان پر نہ رکھے بلکہ ہم سے ہی مال خریدے اس لئے دوکان دار کو کچھ رقم دیتے ہیں، کبھی وہ رقم ہمیں واپس مل جاتی ہے اور بعض اوقات رقم واپس نہیں ملتی، کیا اس مقصد سے دوکان دار کو کچھ رقم دیناشر عا درست ہے؟

Answer (beginning)

پوچھی گئی صورت میں آپ کا دوکان دار کو مذکورہ رقم دینا، ناجائز و حرام ہے۔ تفصیل اس مسئلہ کی یہ ہے کہ اگر دوکان دار کو رقم دیتے وقت صراحت یا دلالتا کسی بھی طرح طے ہے کہ یہ رقم قابلِ وایسی ہے تو اس صورت میں مذکورہ رقم کی فقہی حیثیت ” قرض “ ہے، اور اس قرض پر شرط ہے کہ دوکان دار دوسری کمپنی کا بیکری آئٹم اپنی دوکان پر نہیں رکھے گا بلکہ صرف آپ سے بیکری آئٹم لیا کرے گا، جو کہ قرض پر مشروط نفع ہے اور ہر وہ قرض جو مشروط نفع لائے، سود اور حرام ہے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.