Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
الٹے ہاتھ سے کھانے پینے کا حکم
- Issued
- ماہنامہ فیضان مدینہ دسمبر 2024 ء
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس بارے میں کہ ہمیں بچپن ہی سے یہ بتایا گیا ہے کہ ہمیشہ سیدھے ہاتھ سے کھانا پینا چاہئے ، الٹے ہاتھ سے کھانا پینا منع ہے، پوچھنا یہ ہے کہ اس کی شرعی حیثیت کیا ہے ؟ یعنی کیا سید ھے ہاتھ سے کھانا پینا واجب ہے؟ کیا الٹے ہاتھ سے کھانا پینا بالکل حرام وناجائز ہے ؟ یہ حکم اور ممانعت کس درجہ کی ہے؟ ہے؟ برائے کرم رہنمائی فرمائیں۔
Answer (beginning)
سیدھے ہاتھ سے کھانا اور سیدھے ہاتھ سے پینا، کھانے پینے کے سنن و آداب میں سے ہے ، حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا مبارک طریقہ بھی یہی تھا، آپ علیہ الصلوۃ و السلام نے اس کا حکم ارشاد فرمایا جبکہ بائیں ہاتھ سے کھانے اور پینے سے منع فرمایا اور اس کو شیطان کا فعل قرار دیا، لہذا کسی عذر کے بغیر بائیں ہاتھ سے کھانا یا پینا، اگر چہ حرام و گناہ نہیں لیکن اس سنت مستحبہ کے خلاف اور شریعت مطہرہ کی نظر میں ناپسندیدہ عمل ضرور ہے۔ ہاں! اگر کوئی عذر ہو جیسے سیدھا ہاتھ نہ ہو یا سیدھا ہاتھ شل ہو تو ایسی صورت میں بائیں ہاتھ سے کھانے پینے میں کوئی حرج نہیں۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.