Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
احرام پر نام اور ٹوپی پر ماشاء اللہ لکھنا کیسا؟
- Answered by
- مفتی محمد قاسم عطاری
- Issued
- ماہنامہ فیضان مدینہ دسمبر 2024ء
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین ان مسائل کے بارے میں کہ (1) آج کل بعض لوگوں کو دیکھا گیا ہے کہ وہ احرام کی چادروں پر دھاگے کے ذریعے نام لکھوالیتے ہیں، کیا اس طرح کڑھائی کروا کر اپنا نام لکھوانا، جائز ہے ؟ اگر کسی نے حج یا عمرہ میں ایسا احرام پہنا تو کیا اس پر کفارہ لازم ہو گا؟ (2) بعض ٹوپیاں ایسی دیکھی گئی ہیں جن پر مقدس کلمات لکھے ہوتے ہیں جیسے ماشاء اللہ ، یہ لکھوانا اور ان کو پہنا کیسا؟
Answer (beginning)
شریعت مطہرہ نے جن چیزوں کے ادب و احترام کا حکم ارشاد فرمایا ہے ، ان میں سے کلمات و حروف بھی ہیں، اب چاہے یہ بالکل متصل لکھے ہوئے ہوں یا الگ الگ ، سیاہی وغیرہ کے ذریعے لکھے جائیں یا دھاگے کے ذریعے کڑھائی کر کے، دنیا کی کسی زبان میں بھی ہوں، بہر صورت ان کا ادب و احترام شریعت کو مطلوب ہے اور اگر وہ تحریر مقدس کلمات والی ہو تو اس کا ادب و احترام اور بڑھ جاتا ہے، لہذا کسی بھی ایسی چیز پر ان کا لکھنا کہ جس سے ان کی بے ادبی وبے حرمتی ہو یا آئندہ اس کا اندیشہ ہو ، ہر صورت میں ممنوع و مکروہ ہے ، اسی وجہ سے فقہاء کرام علیہم الرحمۃہ اجمعین نے اپنی کتب میں واضح طور پر دیواروں اور مصلوں پر قرآن یا اللہ…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.