Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

مقدس تحریر والے کاغذات ردّی میں بیچنا کیسا؟

Issued
ماہنامہ فیضان مدینہ ربیع الثانی 1441ھ

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ ہم کا پیاں ، رڈی، کاغذ وغیرہ ایک کمپنی سے ستر (17) روپے کے حساب سے خریدتے ہیں اور پھر انیس (19) روپے کے حساب سے آگے بیچ دیتے ہیں۔ اگر ہم اس کے پاس پچاس ہزار (50000) روپے رکھوادیں تو ہمیں بارہ، تیرہ (12,13 ) روپے کے حساب سے رڈی مل جائے گی، یوں ہمیں اچھا خاصہ فائدہ ہو جائے گا۔ کیا ایسا کرنا ٹھیک ہے ؟

Answer (beginning)

سب سے پہلے تو سوال یہ ہے کہ آپ کون سی رڈی خرید رہے ہیں؟ اسلامیات کی کاپیاں جن میں آیات لکھی ہوں گی احادیث لکھی ہوں گی اسی طرح اردو کی کتابوں میں بھی دینی مضامین ہوتے ہیں اور بہت سارا ایسا مواد ہوتا ہے جو دینیات پر مشتمل ہوتا ہے ایسی چیزوں کو رڈی میں بیچنے اور خریدنے کی گنجائش کیسے ہو سکتی ہے ؟ کئی اخبارات میں بھی آیات، ان کا ترجمہ ، احادیث اور دیگر مقدس کلمات لکھے ہوتے ہیں اور کتنی بڑی بے حسی ہے کہ مسلمان ان مقدس لکھائی والے کاغذات کو ایسی جگہ استعمال کر رہے ہوتے ہیں جہاں ان کا ادب و احترام بالکل نہیں پایا جاتا حالانکہ خود حروف بھی قابل تعظیم ہیں۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.