Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

تحفہ دے کر واپس لینے کا حکم

Issued
ماہنامہ فیضان مدینہ نومبر 2024ء

Question

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ زید کی چند سال پہلے ایک جگہ منگنی ہوئی تھی تو منگنی کے بعد وہ اس دوسرے خاندان والوں کو مختلف مواقع، مثلاً عید وغیرہ پر نقدی اور کپڑے وغیرہ اشیاء بطور تحائف دیتے رہے اب ان کی منگنی ٹوٹ چکی ہے ، تو ان تحفے ، تحائف کو واپس لینے کا کیا حکم ہے؟ (نوٹ: سائل نے بتایا کہ تحفے دینے لینے والے دونوں حیات ہیں اور تحائف پر انہوں نے قبضہ بھی کر لیا تھا اور ابھی بعض تحائف ان کے پاس موجود ہیں اور بعض ختم ( ہلاک) ہو چکے ہیں، کچھ ملکیت سے نکل چکے ہیں اور بعض تحائف میں اضافہ بھی ہو چکا ہے۔ اور ان تحائف کا بدل بھی نہیں لیا۔)

Answer (beginning)

قوانین شرع کی رو سے منگنی کے بعد ایک خاندان والوں کی طرف سے دوسرے خاندان والوں کو دیئے جانے والے تحفے تحائف اور کپڑے وغیرہ ہبہ کے حکم میں ہیں اور ہبہ کا حکم یہ ہو تا ہے کہ اگر موانع ہبہ میں سے کوئی مانع نہ پایا جائے، تو قاضی کے فیصلے یا باہمی رضامندی سے واپس لینے کا اگر چہ اختیار ہو تا ہے یعنی واپسی درست ہو جائے گی، مگر واپس لینا مکروہ تحریمی ، ناجائز و گناہ ہے، کہ حدیث پاک میں ہبہ دے کر واپس لینے سے منع کیا گیا ہے اور اسے کتے کی طرح قے کر کے پھر اسے چاٹنے کی مثل قرار دیا گیا ہے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.