Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
مقتدی نے بھول کر امام سے پہلے سلام پھیردیا تو؟
- Issued
- ماہنامہ فیضان مدینہ ستمبر 2024ء
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ جماعت میں شروع سے شامل مقتدی اگر بھولے سے امام کے سلام پھیرنے سے پہلے ہی ایک طرف سلام پھیرے، پھر یاد آنے پر فور الوٹ آئے اور امام کے ساتھ سلام پھیر کر نماز مکمل کرے، تو اس صورت میں اُس کی نماز کا کیا حکم ہو گا؟
Answer (beginning)
پوچھی گئی صورت میں اُس مقتدی کی وہ نماز درست ادا ہوئی ہے، اسے دہرانے کی کوئی حاجت نہیں نہ ہی مقتدی پر سجدہ سہو لازم ہوا۔ بیان کردہ حکم کی ایک نظیر یہ ہے کہ مسبوق مقتدی اگر بھولے سے امام سے پہلے ہی سلام پھیر لے تو اس صورت میں نہ تو اُس مسبوق مقتدی کی نماز فاسد ہوتی ہے اور نہ ہی اُس پر سجدہ سہو لازم ہوتا ہے کہ امام کے سلام پھیرنے سے پہلے وہ مقتدی ہے، اُس سے یہ غلطی حالت اقتداء میں واقع ہوئی ہے اور مقتدی کا سہو معتبر نہیں۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.