Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

جمعہ کو خواتین پہلی اذان کا جواب دیں یا دوسری؟

Issued
ماہنامہ فیضان مدینہ جولائی 2024 ء

Question

دارالافتاءاہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ جمعہ کو جو پہلی اذان ہوتی ہے تو خواتین پہلی والی کا جواب دیں گی یا دوسری کا یا دونوں کا؟

Answer (beginning)

خواتین کے لئے جمعہ کی اذان اول اور ثانی دونوں کا جواب دینا مستحب ہے۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ اذان اول کے جواب کا حکم تو دیگر اذانوں کی طرح ہے کہ ان میں با ہم کوئی فرق نہیں، رہا اذان ثانی کا جواب تو وہ صرف مقتدیوں کو منع ہے اس کے علاوہ کو نہیں حتی کہ خود خطیب اس کا جواب دے سکتا ہے، اور خواتین چونکہ جمعہ کے لئے نہیں آتیں بلکہ گھروں میں ہوتی ہیں تو ان کے لئے اس اذان کے جواب کی ممانعت نہیں، بلکہ وہ اس کا جواب دے سکتی ہیں۔ اذان ثانی کے جواب دینے کی کراہت مقتدیوں کے ساتھ خاص ہے اور جو مقتدی نہیں وہ جواب دے سکتا ہے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.